A joint media project of the global news agency Inter Press Service (IPS) and the lay Buddhist network Soka Gakkai International (SGI) aimed to promote a vision of global citizenship which has the potentiality to confront the global challenges calling for global solutions, by providing in-depth news and analyses from around the world.

Please note that this website is part of a project that has been successfully concluded on 31 March 2016.

Please visit our project: SDGs for All

First Ever UN Security Council Resolution on Youth, Peace and Security - Urdu

نوجوانوں اور امن و سلامتی پر اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کا بالکل پہلا اجلاس

از جے نیسٹرانِس

نیو یارک (آئی ڈی این) - اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے نوجوانوں اور امن و سلامتی پر ایک قرارداد منظور کی ہے جو تاریخ میں پہلی بار بنیادی طور پر تعمیرِ امن اور پر تشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں نوجوان مردوں اور خواتین کے کردار پر مرکوز ہے۔

اردن کی طرف سے سپانسر کی گئی یہ قرارداد قیامِ امن اور پریشان کن انتہا پسندی کے دوران نوجوان معمارانِ امن کو مشغول کرنے کی فوری ضرورت کو تسلیم کرنے کا بے مثال اظہار ہے۔ 9 دسمبر، 2015 کو منظور ہونے والی یہ قرارداد پر تشدد انتہا پسندی کو روکنے اور پائیدار امن کو فروغ دینے کے لیے عالمی کوششوں میں نوجوانوں اور نوجوان قیادت میں چلنے والی تنظیموں کو قابلِ قدر شرکاء کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔

قرارداد ایک ایسے وقت میں منظور ہوئی ہے جب 600 ملین نوجوان نازک اور تنازعات سے متاثرہ ماحول میں رہ رہے ہیں اور خاص طور پر نوجوان خواتین اور مردوں کو بنیاد پرستی اور پر تشدد انتہا پسندی میں اضافے کو روکنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ قرارداد پرامن معاشروں اور جمہوری، شراکتی طرزِ حکومت کے قیام میں نوجوانوں کی قیادت میں تعمیرِ امن اور تنازعات کی روک تھام کے لیے مداخلت کی حمایت کرتی ہے۔

قرارداد اپنے رکن ممالک پر زور دیتی ہے کہ تمام سطحوں پر فیصلہ سازی میں نوجوانوں کی شراکت و نمائندگی بڑھائیں اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر تنازعات کی روک تھام اور ان کے حل کے لیے طریقۂِ کار کے تعین پر غور کریں۔

اس قرارداد نے امن مذاکرات اور تعمیرِ امن کی با ضابطہ کوششوں میں نوجوانوں کی شمولیت کی تجویز دے کر اس ضمن میں ان کے لیے محدود مواقع کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔

قرارداد نوجوانوں میں بنیاد پرستی اور پر تشدد انتہا پسندی کو فروغ دینے والے حالات و عوامل کے مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ اس میں اس بات کو مدِ نظر رکھا گیا ہے کہ پر تشدد انتہا پسندی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے میں نوجوان مرد اور خواتین بطور رول ماڈل مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

قرارداد 2250 کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے نوجوانوں کے نمائندے احمد الھنداوی نے کہا کہ: "یہ نوجوانوں کے بارے میں معروف منفی تأثر کو تبدیل کرنے اور تعمیرِ امن میں نوجوانوں کے نمایاں کردار کو تسلیم کرنے کی ہماری اجتماعی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

"تشدد کا ارتکاب کرنے والوں یا اس کے متاثرین کے طور پر ہر دو طرح سے بہت طویل عرصے سے نوجوانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس قرارداد سے سلامتی کونسل نے متشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور دنیا بھر میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنے میں نوجوانوں کی اہم خدمات کو تسلیم کیا ہے۔"

ہیلن کلارک، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے سربراہ نے کہا کہ: "یہ قرارداد آج کے عالمی چیلنجوں، بشمول امن و سلامتی کے مسائل، سے نپٹنے میں دنیا میں نوجوانوں کے اہم کردار کو تسلیم کرتی ہے۔"

ڈاکٹر بیباٹُنڈے اوسوٹِیمیہِن، اقوامِ متحدہ کے آبادی فنڈ، یو این ایف پی اے، کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، نے کہا کہ: "یہ قرارداد اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہم امن و سلامتی کے حصول کا مقصد پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو کام میں لائیں اور نوجوانوں پر اپنی توانائیاں صرف کریں۔"

آسکر فرنانڈیز-ٹرانکو، قیام امن کی حمایت کے لیے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نے بیان دیا کہ: "سلامتی کونسل قرارداد 2250 کو منظور کر کے، سلامتی کونسل نے ایک تاریخ رقم کر دی ہے۔ پائیدار امن اور عالمی سلامتی کے قیام میں نوجوانوں کے مثبت اور تعمیری کردار کو تسلیم کرنے سے تشدد کے خاتمے اور شراکتی و پرامن معاشروں کی تعمیر کی کوششوں میں ایک نئی تبدیلی آئے گی۔"

نوجوان، نوجوانوں کی تعمیرِ امن کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں سالوں سے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتی آئی ہیں کہ کوئی عالمی پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے جس سے وہ پائیدار امن کی تعمیر اور انتہا پسندی کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

حال ہی میں اس مطالبے کا انجام اگست میں اردن میں نوجوانوں کے امن اعلامیے کی منظوری کی صورت میں ہوا جس میں نوجواںوں اور امن و سلامتی کے عالمی فورم میں پہلی بار 10,000 نمائندوں نے شرکت کی اور نوجوانوں کے شروع کردہ اقدامات اور منصوبوں کی حمایت کی ضرورت کو بیان کیا گیا۔

ایٹمی بمباری سے ہیرو شیما اور ناگاساکی کی تباہی کی 70ویں برسی کے موقع پر ہیروشیما میں ہونے والی تین روزہ نوجوانوں کی انسدادِ تابکاری کانفرنس میں بھی نوجوانوں کے کیے گئے اقدامات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

اگست 2015 کے اجلاس کے شرکاء نے ایک معاہدہ جاری کیا کہ: "ہم، تبدیلی لانے والی نسل، آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ کسی کام کے لیے آواز بلند کرنے میں ہمارا ساتھ دیں؛ جب تک تابکاری ہتھیار ہماری زندگیوں اور ہماری آئندہ نسلوں کے لیے خطرہ ہیں ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔" ہمارے ساتھ شامل ہوں، اقدامات کریں اور تبدیلی لائیں!"

یہ معاہدہ ایک وسیع عوامی فورَم میں جاری کیا گیا جس میں 250 مندوبین نے شرکت کی اور اجلاس کے شریک چیئر پرسنز، نیوکلیئر ایج پِیس فاوٗنڈیشن (این اے پی ایف) کے وے مَن اور سوکا گکائی انٹرنیشنل (ایس جی آئی) کی آنا اِکیڈا، نے نوجوانوں کا معاہدہ احمد الھنداوی، اقوامِ متحدہ سیکرٹری جنرل کے نوجوانوں کے نمائندے، کو پیش کیا۔

الھنداوی نے اس بات پر زور دیا کہ: "آئیے ایک ایسی نسل بنیں جو امن کو ممکن بنائے۔ نوجوانوں کا یہ اجلاس دنیا بھر کو ایک پرزور پیغام دیتا ہے کہ نوجوان امن اور تابکاری سے پاک دنیا کے حامی ہیں، اور یہ کہ دنیا کو ان کی بات ضرور سننی چاہیے۔"

قرارداد 2250 کی منظوری کے ردِّ عمل میں، گوینڈولِن ایس مایرس، لائبیریا میں امن کی کوششوں میں ملوث نوجوانوں کی قیادت میں چلائی گئی ایک این جی او کے سربراہ، نے بیان دیا کہ: "نوجوانوں اور امن و سلامتی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے امن و سلامتی کے مسائل کے حل میں نوجوانوں کی بامعنی شرکت کو قانوںی حیثیت حاصل ہوئی ہے، اور اس سے خصوصاً لائبیریا، افریقہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں پائیدار قیامِ امن کے منصوبوں میں تیزی آئے گی۔" [آئی ڈی این-اِن ڈیپتھ نیوز – 11 دسمبر 2015]